بنگلورو، 14/ مارچ(ایس او نیوز)روزانہ اسکول جانے والے بچوں کے بیاگ کا وزن دیکھیں تو ایسے لگے گا کہ بچے نے اسکول بیاگ نہیں بلکہ بورا اٹھایا ہے۔ان کے بیاگ کا وزن اس سے زیادہ ہوا کر تا ہے۔ والدین روزانہ بیاگ لے کر اپنے بچے کو اسکول تک پہنچا تے ہیں۔بھاری بیاگ کو اسکول لے جانا بچو ں کے لئے ایک مشکل کا کام ہے۔بچوں کو اسکول جاتے ہو ئے دیکھتے ہیں تو سب سے پہلی چیز جو ذہن میں آتی ہے وہ اس کے بھاری بیاگ ہے،10سے12سال عمر کے بچے جن کا وزن تقریباً30سے35کلو ہوا کر تا ہے اپنے کندھوں پر کئی کلو وزن بیاگ لے جاتے ہیں،ان اسکول بیاگس کے وزن کی وجہ سے طلبا کے کندھے جھک رہے ہیں،اس وقت انہیں دیکھیں تو ایسا محسوں ہوتا ہے جیسے کو ئی دنیا کاوزن اٹھائے ہو ئے ہوں۔مرکزی حکومت نے اسکول بیاگ کا وزن کتنے کلو ہو نا چاہئے اس سلسلہ میں وزن کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک پالیسی بنائی ہے۔ نیشنل اسکول بیاگ پالیسی کے مطابق پری پرائمری کی سطح پر پڑھنے والے بچوں کا وزن 10 سے 16 کلوگرام تک نہیں ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اسکول بیاگ لے جائیں۔ پہلی اور دوسری جماعت کے طلبا جن کاوزن16سے22کلو گرام ہوتا ہے انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 1.6سے2.2کلو گرام وزن کابیاگ ساتھ رکھیں۔ چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کے بچوں کو جن کا وزن 20 سے 30 کلوگرام ہے، زیادہ سے زیادہ 2 سے 3 کلو کا بیاگ لے کر اسکول جانا چاہئے۔ لیکن اگر ان کا وزن 25 سے 40 کلو گرام ہے تو وہ 2.5 سے 4 کلو کا بیاگ لے کر اسکول جا سکتے ہیں۔کلاس 9 سے 12 میں پڑھنے والے بچے 2.5 کلو سے 5 کلو وزنی بیاگ لے جا سکتے ہیں۔ اس میں بھی قاعدہ ہے۔ اگر آپ کلاس 9 یا 10 میں پڑھ رہے ہیں، تو آپ کے بیاگ کا وزن صرف 2.5 کلو گرام سے 4 کلو سے 5 کلو گرام تک ہونا چاہئے۔ اگر آپ کلاس 11 اور 12 میں پڑھ رہے ہیں تو آپ کے اسکول بیاگ کا وزن 3.5 سے 5 کلو گرام ہونا چاہیے۔ نیشنل اسکول بیاگ پالیسی دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں لاگو ہے،گزشتہ سال دہلی کے ڈائریکٹیو ریٹ آف ایجوکیشن نے اس پالیسی کو لاگو کرنے کے لئے دارالحکومت کے تمام اسکولوں کو ایک سر کلر جاری کیا تھا۔ اس کے علاوہ دہلی کے تمام اسکولوں کو اپنے اسکولوں میں ایس سی ای آر ٹی،این سی ای آر ٹی اور سی بی ایس ای کے ذریعہ تجویز کر دہ نصاب کو نافذ کرنا چاہئے۔دہلی ڈائریکٹیو ریٹ ایجو کیشن نے کہا کہ یہ نیا اصول بہت سے طلبا کی مدد کرے گا۔بچوں کے لئے ایک اصول ہوگا کہ وہ اپنے وزن کے مطابق وزن کے بیاگ اسکول لے جائیں۔نیشنل اسکول بیاگ پالیسی کرناٹک میں بھی لاگو کی گئی تو بچوں کو اس سے کافی فائدہ ہوگا۔